صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من قلة القنوط إذا وردت عليه حالة الفتور في الطاعات في بعض الأحايين باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کہ بندے پر لازم ہے کہ اگر عبادت میں کبھی سستی یا کمزوری آجائے تو ناامید نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْنَا مِنْ أَنْفُسِنَا مَا نُحِبُّ ، فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهَالِينَا فَخَالَطْنَاهُمْ ، أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي فِي الْحَالِ ، لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُظِلَّكُمْ بِأَجْنِحَتِهَا ، وَلَكِنْ سَاعَةً وَسَاعَةً " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ کہا: کرتے تھے: جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، تو ہمیں اپنی باطنی کیفیات پسندیدہ محسوس ہوتی ہیں، لیکن جب ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ جا کر ان کے ساتھ میل جول کرتے ہیں، تو ہماری کیفیات مختلف ہو جاتی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے پاس جس کیفیت میں ہوتے ہو اگر مستقل طور پر اس کیفیت میں رہو، تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں اور تم پر اپنے پروں کے ذریعے سایہ کریں، لیکن وقت، وقت (کی کیفیت مختلف ہوتی ہے)