صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب فضل رمضان - ذكر كتبة الله جل وعلا صائم رمضان وقائمه مع إقامته الصلاة والزكاة من الصديقين والشهداء باب: رمضان کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا رمضان کا روزہ رکھنے والے اور اس کی راتوں میں قیام کرنے والے کو، جو نماز اور زکوٰۃ قائم کرتا ہو، صدیقین اور شہداء میں لکھتا ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ شَهِدْتُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَصَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَأَدَّيْتُ الزَّكَاةَ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ ، وَقُمْتُهُ ، فَمِمَّنْ أَنَا ؟ قَالَ : " مِنَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ " .سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے، اگر میں اس بات کی گواہی دوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں میں پانچ نمازیں ادا کروں تو میں زکوۃ ادا کروں، میں رمضان کے روزے رکھوں اور رمضان میں نوافل بھی ادا کروں تو میرا شمار کن لوگوں میں ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدیقین اور شہداء میں۔