صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر ما يجب على المرء من مجازاة الخير لأخيه المسلم على أعماله الصالحة والسيئة باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے
حدیث نمبر: 3410
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبٍي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحُوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَرَرْتُ بِرَجُلٍ ، فَلَمْ يُضَيِّفْنِي ، وَلَمْ يَقْرِنِي ، أَفَأَحْتَكِمُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلِ اقْرِهِ " .ابواحوص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا اس نے مجھے مہمان بھی نہیں بنایا اور میری مہمان نوازی بھی نہیں کی، تو کیا میں اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جی نہیں) بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو کرو۔