صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الأمر بأخذ ما أعطي المرء من حطام هذه الدنيا الفانية الزائلة ما لم تتقدمه لها مسألة باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اس فانی دنیا سے دی گئی چیز لے جب تک اس سے پہلے مانگنا نہ ہو
أخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا ، وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ ، أَمَرَ لِيَ بِعُمَالَةٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ ، وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ ، قَالَ : خُذْ مَا أُعْطِيتَ ، فَإِنِّي قَدْ قُلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمَلِي مِثْلَ قَوْلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ " .ابن ساعدی مالکی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے زکوۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کیا جب میں فارغ ہو کر آیا اور انہیں ادائیگی کر دی، تو انہوں نے مجھے تنخواہ دینے کا حکم دیا میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کیا ہے اور میرا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ انہوں نے فرمایا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے وصول کر لو، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں نے بھی یہ کام کر کے وہی بات کہی تھی جو تم نے کہی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” جب تمہارے مانگے بغیر تمہیں کوئی چیز دے دی جائے، تو تم اسے خود بھی استعمال کرو اور صدقہ بھی کرو۔ “