صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الأمر للمرء بالاستغناء بالله جل وعلا عن خلقه إذ فاعله يغنيه الله جل وعلا بتفضله باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اللہ جل وعلا پر بھروسہ کرے اس کی مخلوق سے مستغنی ہو، کیونکہ ایسا کرنے والے کو اللہ اپنے فضل سے غنی کر دیتا ہے
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحِيَى السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ ، فَسَمِعْتُهُ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَاهُ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ ، فَأَنَا الِيَوْمَ أَكْثَرُ الأَنْصَارِ مَالا .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرا یہ ارادہ تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگوں گا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ” جو شخص بے نیازی اختیار کرنا چاہتا ہےاللہ تعالیٰ اسے بے نیاز رکھتا ہے، جو شخص مانگنے سے بچتا ہےاللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے گا ہم اسے دے دیں گے ۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں واپس آ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں مانگا اور آج انصار میں میرے پاس سب سے زیادہ مال ہے۔ “