صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الخصال المعدودة التي أبيح للمرء المسألة من أجلها باب: سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس گنتی خصوصیات کا ذکر جن کی وجہ سے آدمی کے لیے مانگنا جائز ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلالِيِّ ، قَالَ : تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ مِنْهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَجِيئَنَا الصَّدَقَةُ ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا قَبِيصَةُ ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لإِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ : لَقَدْ أَصَابَتْ فُلانًا فَاقَةٌ ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ، أَوْ قَالَ : سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " .کنانہ بن نعیم عدوی سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ اس کے بارے میں مدد مانگوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ تم ٹھہرے رہو جب ہمارے پاس (صدقے کا مال) آئے گا، تو ہم تمہیں دینے کا حکم دے دیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ مانگنا تین میں سے کسی ایک شخص کے لئے جائز ہے ایک وہ شخص جس کے ذمے کوئی ادائیگی ہو اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو اس (مانگنے) سے رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو، جس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوا ہے اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کر سکے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔