صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
صدقة التطوع - ذكر الأمر للمرء بأن لا يرد السائل إذا سأله بأي شيء حضره باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی سائل کو رد نہ کرے اگر وہ اس سے کچھ مانگے جو اس کے پاس موجود ہو
حدیث نمبر: 3374
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الحَارِثيِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا السَّائِلَ " قَصْدُ زَجْرٍ بِلَفْظِ الأَمْرِ ، يُرِيدُ بِهِ : لا تَرُدُّوا السَّائِلَ إِلا بِشَيْءٍ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ .سیده ام بجید انصاریہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ” مانگنے والے کو (کچھ دے کر) لوٹاؤ خواہ جلا ہوا پایا ہی دو۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم مانگنے والے کو لوٹاؤ “ اس کے ذریعے آپ کا مقصد یہ ہے: لفظی طور پر حکم دیا گیا ہے لیکن اصل مقصود منع کرنا ہے۔ آپ کی مراد یہ ہے: تم مانگنے والے کو کوئی چیز دے کر واپس لوٹاؤ۔ خواہ جلا ہوا پایہ ہی دو۔