صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر ما يجب على المرء من قلة الاغترار بكثرة إتيانه المأمورات وسعيه في أنواع الطاعات باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس امر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ اپنی کثرتِ عبادت اور نیکیوں پر غرور نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ أَمْرِنَا كَأَنَّا نَنْظُرُ إِلَيْهِ ، أَبِمَا جَرَتْ بِهِ الأَقْلامُ وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، أَوْ بِمَا يُسْتَأْنَفُ ؟ قَالَ : " لا ، بَلْ بِمَا جَرَتْ بِهِ الأَقْلامُ وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " قَالَ سُرَاقَةُ : فَلا أَكُونُ أَبَدًا أَشَدَّ اجْتِهَادًا فِي الْعَمَلِ مِنِّي الآنَ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سراقہ بن جعشم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس صورت حال کے بارے میں بتائیے جس کا ہم جائزہ لیتے ہیں۔ کیا اس کے بارے میں قلم جاری ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے؟ یا یہ نئے سرے سے کوئی چیز ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ اس بارے میں قلم جاری ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے۔ انہوں نے عرض کی: پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لئے آسانی کر دی جاتی ہے۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آج کے بعد میں ہمیشہ عمل کے بارے میں بھرپور کوشش کرتا رہوں گا۔