صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
صدقة التطوع - ذكر تفضل الله جل وعلا على الغارس الغراس بكتبه الصدقة عند أكل كل شيء من ثمرته باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے اس شخص کو صدقہ لکھتا ہے جو درخت لگاتا ہے جب اس کے پھل سے کوئی چیز کھائی جاتی ہے
حدیث نمبر: 3368
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ ؟ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " ، فَقَالَتْ : بَلْ مُسْلِمٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا ، وَلا يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلا دَابَّةٌ وَلا شَيْءٌ إِلا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے باغ میں ان کے ہاں تشریف لے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ باغ کس نے لگایا ہے کسی مسلمان نے یا کافر نے۔ انہوں نے جواب دیا: مسلمان نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو بھی باغ لگاتا ہے یا کھیت لگاتا ہے، تو اس میں سے جو بھی انسان یا جانور یا جو بھی چیز کچھ کھاتے ہیں، تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتی ہے۔