صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
صدقة التطوع - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به سعيد المقبري باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر سعید المقبری نے منفرد طور پر روایت کی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقُوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لأَزُوَاجِهِنَّ ، وَقَالَ : " إِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، وَجَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَمِنْكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " ، فَقَالَتِ الْمَارِدَةُ أَوِ الْمُرَادِيَّةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَمْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَتُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ " .سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیںاللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور شوہر کی فرمانبرداری کی ہدایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کچھ خواتین جنت میں داخل ہوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جمع کر کے فرمایا: اور تم میں سے کچھ جہنم کا ایندھن بنیں گی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا، تو مار دیا شاید مراد قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شوہر کی ناشکری کرتی ہو تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور بھلائی کی ناشکری کرتی ہو۔