صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
صدقة التطوع - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الصدقة في التربية كتربية الإنسان الفلو أو الفصيل باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی تربیت کی مثال انسان کے بچھڑے یا بچھڑے کی تربیت سے دی
حدیث نمبر: 3316
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ، وَلا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلا الطَّيِّبَ ، إِلا كَانَ اللَّهُ يَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَبْلُغَ التَّمْرَةُ مِثْلَ أُحُدٍ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو بھی مسلمان پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے ویسےاللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، تواللہ تعالیٰ (اس صدقے کو) اپنے دست قدرت میں لے لیتا ہے اور اسے بڑھانا شروع کرتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور ” احد “ پہاڑ جتنی ہو جاتی ہے۔ “