صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب مصارف الزكاة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تحري صدقة المستورين ومن لا يسأل دون السؤال منهم باب: زکاۃ کے مصارف کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ مستورین اور ان لوگوں کو صدقہ دے جو مانگتے نہیں، بجائے ان کے جو مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 3298
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَافِ ، مَنْ تَرُدُّهُ الأَكْلَةُ وَالأَكْلَتَانِ ، وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لا يَجِدُ غِنًى فَيُغْنِيهِ ، وَلا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا ، وَيَسْتَحِيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” غریب وہ نہیں ہوتا جو کھانے کی ایک یا دو چیزیں لے کر یا ایک دو لقمے لے کر جائے یا ایک یا دو کھجوریں لے کر واپس چلا جائے بلکہ غریب وہ ہوتا ہے، جس کے پاس اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے نہ ہو اور وہ لوگوں سے لپٹ کر مانگتا بھی نہیں ہے وہ اس بات سے شرما جاتا ہے کہ لوگوں سے لپٹ کر مانگے۔ “