صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك الاتكال على الصالحين في زمانه دون السعي فيما يكدون فيه من الطاعات باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کے صالحین پر بھروسہ نہ کرے بلکہ طاعات میں خود محنت کرے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا ، مُحْمَرًّا وَجْهُهُ ، يَقُولُ : " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " وَحَلَّقَ بِأَصْبُعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: ایک سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں تشریف لائے آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا، اور آپ یہ فرما رہے تھےاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ عربوں کے لئے اس برائی کی وجہ سے بربادی ہے، جو قریب آ چکی ہے، آج ” یاجوج ماجوج “ کی دیوار کا اتنا حصہ کھول دیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے ذریعے حلقہ بنا کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے؟ جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! جب برائی زیادہ ہو جائے گی، تو پھر سب لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔