صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الخبر الدال على أن العقوبات التي تقدم ذكرنا لها هي على من لم يؤد زكاته من ماله دون من زكاها باب: زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ذکر کردہ عقوبات اس کے لیے ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، نہ کہ اس کے لیے جو زکوٰۃ ادا کرے
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قال : حدَّثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لا يُعْطَى فِيهِ الْحَقُّ تَطَأُ الإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا ، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ ، فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ ، وَيَقُولُ : مَا لِي وَلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ ، فَيَلْقَمُ يَدَهُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” وہ مال آئے گا، جس کا حق (یعنی زکوۃ) نہیں ادا کیا گیا ہو گا اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندے گا۔ گائے اور بکریاں آئیں گی اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی اور سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا وہ پھر اس کے سامنے آ جائے گا: پھر اس سے بھاگے گا اور یہ کہے گا میرا تمہارے ساتھ کیا واسطہ ہے، تو وہ کہے گا میں تمہارا خزانہ ہوں پھر وہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا۔ “