صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر البيان بأن الخير والحق اللذين ذكرناهما في خبر أريد بهما الزكاة الفرضية دون التطوع باب: زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے ذکر کردہ خیر اور حق سے مراد فرضی زکوٰۃ ہے، نہ کہ نفلی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا إِلا مُثِّلَتْ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَهُ ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، كُلَمَا ذَهَبَ أُخْرَاهَا رَجَعَ أُولاهَا كَذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ النَّاسِ " .سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جو شخص مرتے ہوئے اونٹ یا گائے یا بکریاں چھوڑ جائے جس کی اس نے زکوۃ ادا نہ کی ہو، تو قیامت کے دن انہیں پہلے سے بڑے اور پہلے سے بھاری بھرکم وجود میں اٹھایا جائے گا وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گے اور پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گے جب ان میں سے آخری چلا جائے گا، تو پہلے والا پھر آ جائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تکاللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دے گا۔ “