صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب فضل الزكاة - ذكر نفي النقص عن المال بالصدقة مع إثبات نمائه بها باب: زکاۃ کا بیان - اس بات کی نفی کہ صدقہ سے مال میں کمی آتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ اس کی ترقی کی تصدیق کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 3248
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَلا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفُوٍ إِلا عِزًّا ، وَلا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور معاف کرنے کے نتیجے میںاللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخصاللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہےاللہ تعالیٰ اسے سر بلندی عطا کرتا ہے۔ “