صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب فضل الزكاة - ذكر البيان بأن شعبة سمع هذا الخبر من عثمان بن عبد الله بن موهب وأبيه جميعا باب: زکاۃ کا بیان - اس بات کا بیان کہ شعبہ نے یہ خبر عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور ان کے والد دونوں سے سنی
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيِّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَأَبُوهُ عُثْمَانُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَالَهُ مَالَهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَبٌ مَالَهُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " تَعْبُدُ اللَّهَ لا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا " ، قَالَ : كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ .سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے لوگوں نے کہا: اس کا مال اس کا مال۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ارب مالہ»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اللہ کی عبادت کرو، تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم نماز قائم کرو، تم زکوۃ ادا کرو، تم صلہ رحمی کرو اور اب اسے چھوڑ دو۔ راوی کہتے ہیں گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سواری پر سوار تھے۔