صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الحرص وما يتعلق به - ذكر العلة التي من أجلها أمر بالإجمال في الطلب باب: حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر رزق کی طلب میں اعتدال کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 3240
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرُوَانَ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ سَائِلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا تَمْرَةٌ عَائِرَةٌ ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهَا ، لَوْ لَمْ تَأْتِهَا لأَتَتْكَ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک سائل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں ایک کھجور پڑی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اسے عطا کر دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے حاصل کر لو اگر تم اس کے پاس نہ آتے، تو وہ تمہارے پاس آ جاتی۔