صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الحرص وما يتعلق به - ذكر الزجر عن استبطاء المرء رزقه مع ترك الإجمال في طلبه باب: حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے رزق کی تاخیر پر بے صبری کرے اور اس کی طلب میں اعتدال ترک کرے
حدیث نمبر: 3239
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ الْعَبْدُ حَتَّى يَبْلُغَهُ آخِرُ رِزْقٍ هُوَ لَهُ ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ : أَخَذِ الْحَلالِ ، وَتَرَكِ الْحَرَامِ " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” رزق کی طرف جلد بازی نہ کرو، کیونکہ بندہ اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کے نصیب کا آخری رزق اس تک نہیں پہنچ جاتا اور اس کی طلب میں اس چیز کا خیال رکھو کہ حلال حاصل کرو اور حرام کو چھوڑ دو۔ “