صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر البيان بأن المرء إذا أخرج حق الله من ماله ليس عليه غير ذلك إلا أن يكون متطوعا به باب: حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی اپنے مال سے اللہ کا حق ادا کرے تو اس پر اس کے علاوہ کچھ لازم نہیں، سوائے اس کے کہ وہ خود رضاکارانہ طور پر دے
حدیث نمبر: 3216
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ ، فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ فِيهِ ، وَمَنْ جَمَعَ مَالا حَرَامًا ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ، وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دو، تو تم نے اپنے ذمے لازم فرض کو ادا کر دیا اور جو شخص حرام طور پر مال کو جمع کرتا ہے اور پھر اسے صدقہ کرتا ہے اسے اس کا اجر نہیں ملتا، البتہ اس کا وبال اس کے ذمے ہوتا تھا۔ “