صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر ما يستحب للمرء إتيان المبالغة في الطاعات وكذلك اجتناب المحظورات باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندے کے لیے طاعات میں مبالغہ کرنا اور محظورات سے بچنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 321
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَيْقَظَ أَهْلَهُ ، وأَحْيَا اللَّيْلَ ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ " وَقَدْ ذَكَرَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِيهِ " وَجَدَّ " أَبُو يَعْفُورٍ : اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب (رمضان کا آخری) عشرہ آ جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ کو بھی بیدار رکھتے تھے اور رات کے وقت نوافل ادا کرتے تھے اور کمر ہمت باندھ لیتے تھے۔ سفیان نامی راوی نے ایک مرتبہ ” لفظ کوشش کرتے تھے “ استعمال کیا۔
ابویعفور نامی راوی کا نام عبدالرحمن بن عبید نسطاس ہے۔