صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر ما يقوم مقام الجهاد النفل من الطاعات للمرء باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بعض طاعات نفل جہاد کے قائم مقام ہو سکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 318
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ الشَّاعِرُ الْمَكِّيُّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ ، فقَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں کی اچھی طرح خدمت کرو۔