صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر ما يستحب للمرء أن يقوم في أداء الشكر لله جل وعلا بإتيان الطاعات بأعضائه دون الذكر باللسان وحده باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کا شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے اعضاء کے ذریعے طاعات انجام دے کر ادا کرے۔
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کرتے تھے اور اتنا طویل قیام کرتے تھے: آپ کے دونوں پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ جبکہ آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذنب) کی مغفرت ہو چکی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔