صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صلاة الخوف - ذكر وصف صلاة المرء في الخوف إذا أراد أن يصليها جماعة ركعة واحدة باب: خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی خوف کے وقت اگر جماعت سے ایک رکعت پڑھنا چاہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلاةَ الْخَوْفِ ، فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَصَفٌّ خَلْفَهُ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا ، فَقَامَ هَؤُلاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، وَلَهُمْ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز خوف پڑھائی ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑی ہو گئی اور ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے پھر وہ لوگ آئے اور آ کر کھڑے ہو گئے اور یہ لوگ کھڑے رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے یعنی ایک رکعت پڑھائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک کی ایک رکعت ہوئی۔