صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صلاة الاستسقاء - ذكر البيان بأن صلاة الاستسقاء يجب أن تكون مثل صلاة العيد سواء باب: بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ صلاة الاستسقاء کو عید کی نماز کی طرح ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 2862
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَسْأَلُهُ عَنْ صَلاةِ الاسْتِسْقَاءِ ، فَقَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُتَبَذِّلا مُتَمَسْكِنًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ " .ہشام بن اسحاق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک گورنر نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے نماز استسقاء کے بارے میں دریافت کروں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمولی کپڑوں میں عاجزی و انکساری تواضع کا اظہار کرتے ہوئے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کی طرح خطبہ نہیں دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی جیسے عید کے موقع پر نماز ادا کرتے تھے۔