صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صلاة الكسوف باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان -
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا انْكَسَفَ أَحَدُهُمَا ، فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَمَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، وَهُوَ الْمَقْصُودُ ، فَأَطْلَقَ هَذَا الْمَقْصُودَ عَلَى سَبَبِهِ وَهُوَ الْمَسَاجِدُ ، لأَنَّ الصَّلاةَ تَتَّصِلُ فِيهَا لا أَنَّ الْمَسَاجِدَ يُسْتَغْنَى بِحُضُورِهَا عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ أَوِ الْقَمَرِ دُونَ الصَّلاةِ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ کی اقتداء میں ہم بھی کھڑے ہوئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ” اے لوگو! بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے، تو تم مساجد کی طرف آؤ (یعنی نماز کسوف ادا کرو) ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہی مقصود ہے تو یہاں مقصود کو اس کے سبب پر مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے اور وہ مساجد ہیں۔ کیونکہ نماز مسجد میں ادا کی جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت صرف مسجد میں آ جانا کافی ہو گا۔ جبکہ نماز ادا نہ کی جائے۔