صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صلاة الكسوف باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان -
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُوا وَصَلُّوا ، حَتَّى تَنْجَلِيَ " .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ یہ اس دن کی بات ہے (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا لوگوں نے کہا: یہ گرہن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے یا کسی کے جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو دعا مانگو نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائیں۔