صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صلاة الجمعة - ذكر الإباحة للخاطب عند قراءته السجدة في خطبته أن يترك السجود ثم يعود إلى ما في خطبته باب: جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ خطیب اپنے خطبہ میں سجدہ کی آیت پڑھنے پر سجدہ ترک کر سکتا ہے پھر اپنے خطبہ کی طرف واپس آ سکتا ہے
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ : ص سورة الفاتحة آية 1 ، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ نَزَلَ فَسَجَدَ ، فَسَجَدْنَا مَعَهُ ، وَقَرَأَهَا مَرَّةً أُخْرَى ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ ، فَلَمَّا رَآنَا ، قَالَ : " إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ ، وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدِ اسْتَعْدَتُّمْ لِلسُّجُودِ " ، فَنَزَلَ ، فَسَجَدَ ، فَسَجَدْنَا مَعَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصَّوَابُ : قَدِ اسْتَعْدَدْتُمْ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے سورۃ ص کی تلاوت کی جب آپ نے آیت سجدہ تلاوت کی تو آپ منبر سے نیچے اترے آپ نے سجدہ کیا آپ کے ہمراہ ہم نے بھی سجدہ کیا۔ پھر آپ نے اسے دوسری مرتبہ تلاوت کیا جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو ہم لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار تھے۔ آپ نے ہمیں دیکھا تو ارشاد فرمایا: یہ ایک نبی کی توبہ کا واقعہ ہے، لیکن میں نے تمہیں دیکھا ہے، تم سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو، تو آپ منبر سے نیچے اترے۔ آپ نے سجدہ کیا آپ کے ہمراہ ہم نے بھی سجدہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست لفظ یہ ہے ” استعداد تم (یعنی تم ایسا کرنے کے لیے مستعد ہو)