صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر البيان بأن المرء يرد في القيامة الحوض على المصطفى صلى الله عليه وسلم بقوله الحق عند الأئمة في الدنيا- باب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت کے دن انسان دنیا میں ائمہ کے سامنے حق بات کہنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر پہنچے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ : خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ ، أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ ، وَالآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ ، فَقَالَ : " اسْمَعُوا ، أَوْ هَلْ سَمِعْتُمْ ، إِنَّهُ يَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ " .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نو افراد تھے، جن میں سے پانچ ایک قسم کے تھے اور چار دوسری قسم کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک گروہ عربی تھا، اور دوسرے عجمی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” تم لوگ غور سے سنو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا تم لوگ سن رہے ہو؟ میرے بعد حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ وہ میرے حوض پر نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آ سکے گا ۔“