حدیث نمبر: 2787
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ ، صُقِلَتْ ، فَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14 " .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے، تو اس کے دل پر ایک نکتہ لگا دیا جاتا ہے اگر وہ اس سے الگ ہو جائے اور مغفرت طلب کر لے اور توبہ کر لے، تو وہ نکتہ صاف ہو جاتا ہے البتہ اگر وہ دوبارہ یہی غلطی کرتا ہے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے اگر وہ غلطی دوبارہ کرتا ہے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے یہاں تک (وہ سیاہی) اس کے اندر غالب آ جاتی ہے یہ وہ ران (زنگ) ہے، جس کا ذکراللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ ” بلکہ ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے اس وجہ سے جو وہ کماتے ہیں ۔“

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2787
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - مكرر (926). تنبيه!! رقم (926) = (930) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2776»