صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صلاة الجمعة - ذكر وصف طبع الله جل وعلا على قلب التارك للجمعة على ما وصفنا باب: جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ہمارے بیان کردہ طریقے سے جمعہ ترک کرنے والے کے دل پر مہر لگاتا ہے
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ ، صُقِلَتْ ، فَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14 " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے، تو اس کے دل پر ایک نکتہ لگا دیا جاتا ہے اگر وہ اس سے الگ ہو جائے اور مغفرت طلب کر لے اور توبہ کر لے، تو وہ نکتہ صاف ہو جاتا ہے البتہ اگر وہ دوبارہ یہی غلطی کرتا ہے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے اگر وہ غلطی دوبارہ کرتا ہے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے یہاں تک (وہ سیاہی) اس کے اندر غالب آ جاتی ہے یہ وہ ران (زنگ) ہے، جس کا ذکراللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ ” بلکہ ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے اس وجہ سے جو وہ کماتے ہیں ۔“