صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في صلاة السفر - ذكر الخبر الدال على أن الناوي سفرا يكون نهاية قصده ما وصفنا له قصر الصلاة إذا خلف دور البلدة وراءه باب: فصل: سفر کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے بیان کردہ سفر کا ارادہ کرنے والے کو جب تک شہر کے گھر پیچھے نہ چھوڑے، قصر نماز کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 2745
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلاثَةِ أَمْيَالٍ ، أَوْ ثَلاثَةِ فَرَاسِخَ ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .یحیی بن یزید ہدنائی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تین فرسخ کے سفر کے لیے روانہ ہوتے تھے۔ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے، تو دو رکعات ادا کرتے تھے۔