صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب المسافر - ذكر البيان بأن دعوة المسافر لا ترد ما دام في سفره باب: سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا بیان کہ مسافر کی دعا اس وقت تک رد نہیں ہوتی جب تک وہ سفر میں ہو
حدیث نمبر: 2699
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " ثَلاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اسْمُ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ .امام محمد الباقر رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تین طرح کی دعاؤں کے مستجاب ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کے لیے کی گئی دعا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام ابوجعفر نامی راوی کا نام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابوطالب ہے یعنی (یہ امام باقر ہیں)