صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب المسافر - ذكر ما يحمد العبد ربه جل وعلا عند الركوب لسفر يريده باب: سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا کی حمد کرتا ہے جب وہ سفر کے لیے سوار ہوتا ہے
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهِ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : ( سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 13 - 14 ) ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا ، اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلاثًا ، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، قُلْتُ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي ، قَالَ : عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي " .علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب ایک جانور لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ پڑھی جب وہ اس جانور کی پشت پر سیدھے بیٹھ گئے، تو انہوں نے تین مرتبہ الحمدللہ کہا: پھر یہ پڑھا: ” پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم اس پر ق ابونہیں پا سکتے تھے “ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ” بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے ۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ الحمدللہ پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہا: ” (اے اللہ) تو پاک ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، تو میری مغفرت کر دے گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے ۔“ پھر وہ مسکرا دیئے میں نے دریافت کیا: امیر المؤمنین آپ کس بات پر مسکرائے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔ پھر آپ مسکرا دیئے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا پروردگار اس بندے سے خوش ہوتا ہے، جب وہ یہ کہتا ہے، اے میرے پروردگار تو میری مغفرت کر دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ یہ بات جانتا ہے، میرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا ۔“