صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصفات- باب: اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان -
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لا يَنَامُ ، وَلا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلُ اللَّيْلِ ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلُ النَّهَارِ ، حِجَابُهُ النُّورُ ، لَوْ كُشِفَ طَبَقُهَا أَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ ، وَاضِعٌ يَدَهُ لِمُسِيءِ اللَّيْلِ لِيَتُوبَ بِالنَّهَارِ ، وَلُمُسِيءِ النَّهَارِ لِيَتُوبَ بِاللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شکاللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے، اور یہ اس کی شان کے لائق بھی نہیں ہے، کہ وہ سو جائے، وہ پلڑے کو اوپر نیچے کرتا رہتا ہے۔ دن کے اعمال، رات ہونے سے پہلے اور رات کے اعمال دن ہونے سے پہلے اس کی بارگاہ میں پیش کر دیئے جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے۔ اگر اس کے ایک پردے کو ہٹا دیا جائے، تو اس کی ذات کے انوار ہر اس چیز کو جلا دیں، جو اس کی بصارت کے دائرے میں ہیں۔ اس نے اپنا دست رحمت رات کے وقت گناہ کرنے والے شخص کے لئے پھیلایا ہوا ہے، تاکہ دن میں اس کی توبہ قبول کرے اور دن میں گناہ کرنے والے شخص کے لئے پھیلایا ہوا ہے، تاکہ رات میں اس کی توبہ قبول کرے ۔“ (ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا) جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔