حدیث نمبر: 2656
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتُرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً زَادَ فِيهَا ، أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ، فَلَمَّا أَتَمَّ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ لأَخْبَرْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ، وَإِذَا أَحَدُكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ وَلْيَبْنِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی۔ آپ نے اس میں کچھ اضافہ کیا یا شاید کچھ کمی کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک ٹانگ بچھائی آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، میں اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو اور جب میں بھول جاؤں، تو تم مجھے یاد کروا دو اور جب کسی انسان کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ درست چیز کے بارے میں اندازہ لگانے کی کوشش کرے اس پر بنیاد قائم کرے اور پھر (آخر میں) دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2656
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (935)، «الإرواء» (2/ 45 - 46): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2646»