صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصفات- باب: اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان -
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيرَةَ وَاسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا سورة النساء آية 58 إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا سورة النساء آية 58 : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى إِذْنِهِ ، وَأُصْبَعَهُ الدَّعَّاءَ عَلَى عَيْنِهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَرَادَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِهِ أُصْبُعَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَعَيْنِهِ تَعْرِيفَ النَّاسِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا لا يَسْمَعُ بِالأُذُنِ الَّتِي لَهَا سِمَاخٌ وَالْتِوَاءٌ ، وَلا يُبْصِرُ بِالْعَيْنِ الَّتِي لَهَا أَشْفَارٌ وَحَدَقٌ وَبَيَاضٌ ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهَ بِخَلْقِهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ ، بَلْ يَسْمَعُ وَيُبْصِرُ بِلا آلَةٍ كَيْفَ يَشَاءُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے اس آیت کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” بے شکاللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ حکم دیتا ہے، تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کو ادا کر دو ۔“ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ” بے شکاللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنا انگوٹھا اپنے کان پر رکھا اور اپنی انگلی جس کے ذریعے نماز کے دوران اشارہ کیا جاتا ہے اسے اپنی آنکھ پر رکھا۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی انگلی کو اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں پر رکھنے کا مطلب یہ ہے: آپ لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کریں کہاللہ تعالیٰ اس کان کی وجہ سے نہیں سنتا جس میں سوراخ اور موڑ ہوتا ہے۔ اور اس آنکھ کی مدد سے نہیں دیکھتا ہے، جس میں پتلیاں اور ڈیلا اور سفیدی ہوتی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کے ساتھ مشابہ قرار دیا جائے بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر سنتا اور دیکھتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے۔