صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن المرء مباح له إذا عجز عن القيام لتهجده أن يصلي جالسا باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی اگر تہجد کے لیے قیام سے عاجز ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 2630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ فِي السِّنِّ كَانَ يَقْرَأُ حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ ثَلاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً ، قَامَ فَقَرَأَ ، ثُمَّ سَجَدَ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے نوافل بیٹھ کر ادا نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب آپ کی عمر زیادہ ہو گئی تو پھر آپ (بیٹھ کر) تلاوت کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب تلاوت میں تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتی تھیں، تو آپ کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے تھے، پھر سجدے میں جاتے تھے۔