صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في قيام الليل - ذكر سؤال المصطفى صلى الله عليه وسلم ربه جل وعلا الهداية لما اختلف فيه من الحق عند افتتاحه صلاة الليل باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز شروع کرتے وقت اپنے رب جل وعلا سے حق میں اختلاف کے بارے میں ہدایت مانگتے تھے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلاتَهُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ، اهْدِنِي لَمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ ، فَإِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " .ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے، تو آپ اپنی نماز کا آغاز کس چیز سے کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت کھڑے ہوتے تھے، تو آپ اپنی نماز کے آغاز (میں یہ دعا پڑھتے تھے) ” اے اللہ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، اے غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے، تو اس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ دے گا، جس کے بارے میں لوگ اختلاف رکھتے ہیں۔ تو میری ہدایت اس چیز کی طرف کر جس حق کے بارے میں اختلاف کیا جاتا ہے۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب کرتا ہے ۔“