صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في قيام الليل - ذكر تفضل الله جل وعلا على المحدث نفسه بقيام الليل ثم غلبته عيناه حتى نام عنه بكتبة أجر ما نوى باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص پر فضل کرتا ہے جو رات کے قیام کے لیے وضو کرتا ہے پھر اس کی آنکھیں غالب آ جاتی ہیں اور وہ سو جاتا ہے، اس کے ارادے کے مطابق اس کا اجر لکھا جاتا ہے
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، ، أَنَّهُ عَادَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ ، أَوْ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، شَكَّ شُعْبَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِقِيَامِ سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَنَامُ عَنْهَا ، إِلا كَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْهِ ، وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ مَا نَوَى " .سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: وہ زر بن حبیش کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لیے گئے انہوں نے بتایا: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے (راوی کو شک ہے) یا شاید سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے، یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جو بھی بندہ ذہن میں یہ طے کرتا ہے، رات کے کسی حصے میں نوافل ادا کرے گا اور وہ اس وقت میں سویا رہ جاتا ہے، تو وہ نیند صدقہ ہوتی ہے، جواللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہوتا ہے اور اس شخص کو اس کی نیت کے مطابق اجر مل جاتا ہے ۔“