صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في قيام الليل - ذكر استحباب الإكثار للمرء من قيام الليل رجاء ترك المحظورات باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی رات کے قیام کو زیادہ کرے تاکہ حرام چیزوں سے بچ سکے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ سُحَيْمٌ حَرَّانِيٌّ ثَبْتٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلانًا يُصَلِّي اللَّيْلَ كُلَّهُ ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ ، قَالَ : " سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ " مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ نَفْسِهِ ، كَمَا تُضِيفُ إِلَى الْفَاعِلِ ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الصَّلاةَ إِذَا كَانَتْ عَلَى الْحَقِيقَةِ فِي الابْتِدَاءِ وَالانْتِهَاءِ ، يَكُونُ الْمُصَلِّي مُجَانِبًا لِلْمَحْظُورَاتِ مَعَهَا ، كَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ سورة العنكبوت آية 45 .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں شخص ساری رات نفل پڑھتا رہتا ہے جب صبح ہوتی ہے، تو وہ چوری کر لیتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز عنقریب اسے اس عمل سے روک دے گی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ” وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز اسے عنقریب روک دے گی “ یہ اس نوعیت کے الفاظ ہیں۔ جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات تحریر کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی فعل کی نسبت اس فعل کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت فاعل کی طرف کر دیتے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب نماز اپنے آغاز اور اختتام کے حوالے سے حقیقت پر مبنی ہو۔ تو نمازی شخص اس نماز کے ہمراہ ممنوعہ چیزوں سے مجتنب رہتا ہے اس کی مثالاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ” بے شک نماز فحاشی اور گناہوں سے روکتی ہے۔ “