صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في قيام الليل - ذكر الخبر الدال على أن صلاة الليل جعلت للمصطفى صلى الله عليه وسلم نفلا بعد أن كان الفرض عليه في البداية باب: قیام الليل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ رات کی نماز مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نفل بنائی گئی جبکہ شروع میں وہ ان پر فرض تھی
حدیث نمبر: 2552
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا ، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ ، أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .سعد بن ہشام، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تھے، تو آپ اس بات کو پسند کرتے تھے، اسے باقاعدگی سے ادا کریں اور اگر آپ نیند یا بیماری یا تکلیف وغیرہ جیسی کسی مصروفیت کی وجہ سے رات کے وقت نوافل ادا نہیں کر پاتے تھے، تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرتے تھے۔