صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في صلاة الضحى - ذكر كتبة الله جل وعلا الصدقة للمرء بصلاة الضحى باب: صلاة الضحی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا چاشت کی نماز پڑھنے والے کے لیے صدقہ لکھتا ہے
حدیث نمبر: 2540
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الإِنْسَانِ ثَلاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلا ، عَلَى كُلِّ مَفْصِلٍ صَدَقَةٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تُنَحِّي الأَذَى ، وَإِلا فَرَكْعَتَيِ الضُّحَى " .عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” انسان میں تین سو ساٹھ (360) جوڑ ہوتے ہیں اور ہر جوڑ پر صدقہ کرنا لازم ہے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم تکلیف دہ چیز کو پرے کر دو، ورنہ چاشت کے وقت دو رکعات ادا کر لو ۔“