صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في صلاة الضحى - ذكر البيان بأن صلاة الضحى عند ترميض الفصال من صلاة الأوابين باب: صلاة الضحی کا بیان - اس بات کا بیان کہ چاشت کی نماز جب اونٹ کے بچوں کی گرمی ہوتی ہے تو وہ اوابین کی نماز ہے
حدیث نمبر: 2539
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلاةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ " .سیدنا زید بن ارقم کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے مسجد قباء میں کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو یہ بات ارشاد فرمائی یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں، اس وقت کے علاوہ وقت میں نماز ادا کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” نیک لوگوں کی نماز اس وقت ہوتی ہے، جب (اونٹ کے) بچوں کے لیے ریت گرم ہو جائے ۔“