صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في صلاة الضحى - ذكر الخبر الدال على أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الضحى على دائم الأوقات باب: صلاة الضحی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت چاشت کی نماز پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2530
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ حَتَّى كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ وَاحِدٍ ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَيُرَتِّلُ السُّورَةَ حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا " .نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی بیٹھ کر نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کے وصال سے ایک سال پہلے میں نے آپ کو دیکھا، آپ بیٹھ کر نوافل ادا کر رہے تھے آپ سورۃ کو ٹھہر، ٹھہر کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے سے بھی سورۃ سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔