صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في الصلاة على الدابة - ذكر البيان بأن المسافر مباح له أن يتنفل على راحلته وإن كان ظهره إلى القبلة باب: جانور پر نماز پڑھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی سواری پر نفل پڑھے چاہے اس کا پچھلا حصہ قبلہ کی طرف ہو
حدیث نمبر: 2521
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَكَانَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا عَلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الْمَشْرِقِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل نماز ادا کر لیتے تھے جس کا رخ مشرق کی سمت ہوتا تھا اور جب آپ نے فرض نماز ادا کرنی ہوتی تھی تو آپ سواری سے نیچے اترتے تھے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے ادا کرتے تھے۔