صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب النوافل - ذكر الخبر الدال على أن هذا الرجل لم تفته صلاة أمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يقضيها كما زعم من حرف الخبر عن جهته وتأول له ما وصفت باب: نفل نمازوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس شخص سے کوئی نماز نہیں چھوٹی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قضاء کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اس نے خبر کو اس کی سمت سے ہٹایا اور اس کی جو تشریح ہم نے بیان کی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ " تَصَدَّقُوا " ، فَتَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ، وَقَالَ : " تَصَدَّقُوا " ، فَأَلْقَى هُوَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ وَقَالَ : " انْظُرُوا إِلَى هَذَا ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ، فَلَمْ تَفْعَلُوا ، فَقُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَوْهُ ثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ قُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، خُذْ ثَوْبَكَ " ، وَانْتَهَرَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ ثَوْبَكَ " ، لَفْظَةُ أَمْرٍ بِأَخْذِ الثَّوْبِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّهِ وَهُوَ بَذْلُ الثَّوْبِ ، وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا أَخْرَجَ شَيْئًا لِلصَّدَقَةِ فَمَا لَمْ يَقَعْ فِي يَدِ الْمُتَصَدِّقِ بِهِ عَلَيْهِ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهِ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ غَيْرُ مُسْتَحَبٍّ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ كُلِّهِ إِلا عِنْدَ الْفَضْلِ عَنْ نَفْسِهِ وَعَمَّنْ يَقُوتُهُ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ حکم دیا، وہ دو رکعات ادا کر لے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ صدقہ کرو انہوں نے صدقہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دیئے ہوئے صدقے سے دو کپڑے اس شخص کو دیئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ صدقہ کرو تو اس شخص نے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا پیش کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا یہ عمل اچھا نہیں لگا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی طرف دیکھو، یہ بری حالت میں مسجد میں آیا تھا مجھے یہ امید تھی، تم لوگ اس کی حالت کا اندازہ لگا کر اس کو صدقہ دے دو گے لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو میں نے کہا: تم لوگ صدقہ دو پھر لوگوں نے اسے دو کپڑے صدقہ دیئے پھر میں نے کہا: تم لوگ صدقہ دو اس نے ان دو کپڑوں میں سے ایک کو پیش کر دیا (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا) تم اپنا کپڑا لے لو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم اپنے کپڑے حاصل کر لو “ یہاں لفظی طور پر کپڑے حاصل کرنے کا حکم ہے لیکن اس سے مراد اس کی برعکس صورت حال سے منع کرنا ہے اور وہ اپنے کپڑے کو (اللہ کی راہ میں) دینا ہے اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب کوئی شخص صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نکالتا ہے اور ابھی وہ اس شخص کے ہاتھ میں نہیں گئی جسے وہ صدقے کے طور پر دینی تھی تو اس شخص کو اسے واپس لینے کا اختیار ہو گا اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لیے یہ بات مستحب نہیں ہے کہ وہ اپنے سارے مال کو صدقہ کر دے البتہ اس کے پاس اپنی ذات اور اپنی خوراک کے علاوہ اضافی مال موجود ہو، تو (وہ اسے خرچ کر سکتا ہے)۔