صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب النوافل - ذكر الخبر الدال على أن هذا الرجل لم تفته صلاة أمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يقضيها كما زعم من حرف الخبر عن جهته وتأول له ما وصفت باب: نفل نمازوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس شخص سے کوئی نماز نہیں چھوٹی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قضاء کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اس نے خبر کو اس کی سمت سے ہٹایا اور اس کی جو تشریح ہم نے بیان کی
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور یہ ہدایت کی، وہ دو رکعات ادا کر لے پھر وہ شخص اگلے جمعے داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی منبر پر تشریف فرما تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ ہدایت کی، وہ دو رکعات ادا کر لے پھر وہ تیسرے جمعے مسجد میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی منبر پر تشریف فرما تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ ہدایت کی، وہ دو رکعات ادا کر لے۔