صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب النوافل - ذكر البيان بأن صلاة المصطفى صلى الله عليه وسلم الركعتين بعد الجمعة في بيته لم يكن لشيء لا يركعهما إلا فيه باب: نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمعہ کے بعد دو رکعتوں کی نماز گھر میں اس لیے تھی کہ وہ اسے صرف وہیں پڑھتے تھے
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ ، فَقَالَ : " لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا جِئْتُمْ عِيدَكُمْ هَذَا مَكَثْتُمْ حَتَّى تَسْمَعُوا مِنْ قَوْلِي " ، قَالُوا : نَعَمْ ، بِآبَائِنَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمَّهَاتِنَا ، قَالَ : فَلَمَّا حَضَرُوا الْجُمُعَةَ صَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَلَمْ يُرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ إِلَى بَيْتِهِ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدھ کے دن بنو عمرو کے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنی عید پر (یعنی جمعہ کے دن) آؤ تو تم اگر وہاں ٹھہرے رہو اور میری گفتگو سن لو (تو یہ مناسب ہو گا) ان لوگوں نے عرض کی: ٹھیک ہے ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! راوی کہتے ہیں: جب وہ لوگ جمعہ میں شریک ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جمعہ کی نماز پڑھائی پھر آپ نے انہیں جمعہ کے بعد دو رکعات مسجد میں ادا کی اس سے پہلے آپ کو جمعہ کے دن جمعہ کے بعد مسجد میں دو رکعات ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا تھا اس دن سے پہلے (فرض ادا کرنے کے بعد) اپنے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔