صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الوتر - ذكر الخبر الدال على أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يفصل بالتسليم بين الركعتين والثالثة التي وصفناها باب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں اور تیسری جو ہم نے بیان کی اس کے درمیان سلام سے جدائی کرتے تھے
حدیث نمبر: 2432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ يُوتِرُ بَعْدَهَا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَيَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دو رکعات کے بعد (تیسری رکعت کو) وتر ادا کرنا ہوتا تھا۔ آپ ان میں سورہ الاعلی اور سورہ الکفرون کی تلاوت کرتے تھے۔ تیسری رکعت میں سورہ اخلاص، سورہ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت کرتے تھے۔