صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الوتر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الصلاة ركعة واحدة غير جائز باب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ایک رکعت کی نماز جائز نہیں ہے
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، بِطَبَرِسْتَانَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، قَالَ : " فَقَامَ حُذَيْفَةُ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ : صَفًّا خَلْفَهُ ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاءِ مَكَانَ هَؤُلاءِ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، وَلَمْ يَقْضُوا " .ثعلبہ زہدم بیان کرتے ہیں: ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں موجود تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: آپ میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز خوف ادا کی ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنے پیچھے لوگوں کی دو صفیں بنائیں۔ ایک صف ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ پلٹ کر ان لوگوں کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے، تو انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان حضرات نے اپنی نماز کو مکمل نہیں کیا (یعنی صرف ایک ہی رکعت ادا کی دوسری رکعت ادا نہیں کی)۔